Category Archives: Uncategorized

M. Anwar Khan

M.Anwar Khan

Muhammad Anwar Khan, born at Peshawar is one of most active fellow keeps him in contact through Short Message Service of his mobile set and also through Hindkowan, a page was started on face book. we are waiting for his bio-data and … Continue reading

4 Comments

Traffic is Jam

Traffic

Severe traffic jams were witnessed here at Peshawar on all routes of the provincial metropolis due to closure of roads in front of sensitive buildings after reports that two explosives-laden vehicles had entered the city for sabotage activity. The roads … Continue reading

Leave a comment

Hindko Mehfil e Naat

DSC01660

Hindko mehfl-e-naat enthrals audience Peshawar—A Hindko naatia mushaira, Mehfil Husn e Qira’at and mehfl-e-naat arranged by a literary cultural and social welfare organization Gandhara Hindko Board on late Friday night enthralled the audience as a group of Iranian Qaris added … Continue reading

1 Comment

Mehndi, Eid and Chaand Raat

mehndi2

Mehndy or Hinna is a traditional source of enhancing the Eastern beauty. It creates the glow, and assumed as a sign of happiness. The girls of East especially in south Asia, celebrate the Chand Raat, the night of sighting the moon, … Continue reading

1 Comment

Bangles or Chooriyan & Eid

Eid Mubarak

The bangles, we call chooriyan, Wanggan and Gajrai in Urdu, Punjabi, Hindko and other co-related languages, we also call them Bangrai in Pashto, a widely spoken language at Khyber Pakhtunkhwa province also inside and outside of the Pakistan. A gift … Continue reading

1 Comment

رمضان کریم اور یوم آزادئ پاکستان

pak

ہم نے جن باتوں کو اہمیت نہ دی اس میں اسلامی سن ہجری بھی ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا سنہری دور یاد دلاتا ہے لیکن ہم نے اپنے عام معمولات کو انگریزی تاریخ سے جوڑے رکھا اور اب ہم سوائے … Continue reading

1 Comment

Midnight Crescent

crescent

“No Taraveeh prayers have been organized in any mosque of our nearby area” I told to my life and home partner. “Yes, it means Ramadan has not yet started in our country” she added. “Should I not arrange kitchen work … Continue reading

3 Comments

hehehe,hahaha,hoheha,

latifa

A biology teacher wished to demonstrate to his students the harmful effects of alcohol on living organisms. For his experiment, he showed them a beaker with pond water in which there was a thriving civilization of worms. When he added … Continue reading

Leave a comment

Took Took D Dum

chief-guest

A young talented boy, working for Gandhara Hindko Board, uses to knock the door, and deliver a few copies of weekly Hindko Voice, published by Gandhara Hindko Board. Once,  he had dropped a number of forms, allegedly sent by board … Continue reading

Leave a comment

Taraveeh

Tarawih (تراويح) is an Arabic phrase referring to extra prayers given by Muslims at night in the Islamic month of Ramadan (Also spelled Taraweeh, Terawih or in the Urdu language; Taraveeh or Taravih). They are not conmpulsory, however, many Muslims … Continue reading

1 Comment

Ahmad Ali Saieen Day

An Urdu, Hindko and Pushto Mehfile Mushara to celebrate the 74th death anniversary of Ahmad Ali Saieen, the Sufi poet of Hindko language was held here at Peshawar on Wednesday, April 13, 2011. This Mushaera was organized by Idara e … Continue reading

Leave a comment

V R Missing U Zahoor

Zahoor Awaan



Dr. Zahoor Ahmad Awaan

Dr. Zahoor Ahmad Awan was popular most columnist and also remarkable educationists and an author of so many books. He had a model personality we could never forget his work. These are the praising remarks passed  by professor Ta Ha Khan during  his presidential address on the eve of  reference meeting held here in  the conference room of regional branch of Pakistan Academy of Letter. Professor TwaHa Khan presided over the reference meeting while Sabir Hussain Imdaad was holding the seat of Chief Guest. Wadud Khan Hashtnaghrai took start by reciting from Holy Quraan.  Dr. Muhammad Azam Khan Azam the Regional Director of PAL paid warm tribute in his opening address of the session. Professor Sabih Ahmad, Sheen Shaukat, expressed their grieve  and told that the departure of late Dr. Zuhahoor Ahmad Awan is as big lose as it could never be recovered in literary future of the Peshawar. Sajid Sarhadi and Z. I. Athar recited their poems tributing the late Dr. Zahoor Ahmad Awan. While Sabir Hussain Imdaad read his paper written on different aspects of the life and work Dr. Zahoor Ahmad Awan.

ڈاکٹر امجد حسین

کا قلم پکار اٹھا

جاتے ھوئے کہتے ھو قیامت کو ملیں گے

بشکریھ روزنامھ آج پشاور

ظہور احمد اعوان کو رخصت ہوئے ہفتہ بیت چکا ہے یقین نہیں آتا کہ وہ بھی راہ عدم سدھار گیا جانا تو ہم سب کو ہے لیکن وہ جلدی ہی ہم سے رخصت ہوگیا‘ ابھی تو اس نے بہت کچھکرنا تھا‘ کتنی کتابیں اسکے زرخیز ذہن میں کھلبلی مچا رہی تھیں‘ کتنے کالم اس نے پشاوریات پر لکھنے تھے‘ کتنے دوستوں کی لپو لینی تھی‘ کتنے قہوے پینے‘ پلانے تھے‘ غرض کیا نہیں کرنا تھا‘ وہ کیا اٹھا ہماری زندگی کی بساط الٹ گئی۔

ظہور سے میرا صرف 18سال کا ساتھ تھا 1993ء میں امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی انجمن کا سرمائی اجلاس پشاور میں ہو رہا تھا‘ اقبال اعوان نے میوزک پروگرام ترتیب دیا مجھے پروگرام کیلئے کمپیئر کی ضرورت تھی اقبال نے ظہور کا نام لیا‘ ملاقات ہوئی اور ایک ہی ملاقات میں ایسا لگا جیسے مدتوں کا یارانہ ہو‘ جوں جوں قربت بڑھتی گئی اس کی یگانہ روزگار شخصیت کے پرت کھلتے گئے‘ استاد‘ محقق‘ خاکہ نگار‘ سوانح نگار‘ مترجم‘ کالم نگار‘ گزشتہ دہائی کا بہترین نثر نگار‘ یاروں کایار‘ دشمنوں کا دشمن‘ وہ مجھے گورکھ دھندہ کہتا تھا لیکن دراصل یہ صفت اس پر زیادہ پوری اترتی تھی‘ اور ان سب باتوں کے باوجود حد درجہ کی انکساری‘ میں نے ظہور کی شخصیت کا تجزیہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ہر بار ناکام ہوا‘ ہمارے لئے یہ ناممکن ہے کہ ظہور کی شخصیت کے گرد پرکار سے دائرہ کھینچ کر اس کا احاطہ کر سکیں۔

میں ظہور احمد اعوان کی ادبی اور غیر ادبی نگارشات پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں یہ اردو ادب کے محققین کا کام ہے کہ وہ اسکی ساٹھ کتابوں اور ہزاروں کالموں کی روشنی میں اردو ادب میں اس کا مقام متعین کریں‘ یہ ایک فرض ہے جو پشاوریونیورسٹی‘ قرطبہ یونیورسٹی اورصوبائی وزارت تعلیم نے پورا کرنا ہے۔

ظہور اور میری دوستی کی مشترکہ اساس‘ پشاور شہر(جسے پرانا شہر یا حصار والا شہر بھی کہہ سکتے ہیں) کی ہندکو زبان اور ہندکووان کلچر تھا میری طرح وہ بھی دیوانگی کی حد تک پشوری تھا‘ ہم دونوں کے کانوں میں ہندکو لوریوں کی مٹھاس سموئی ہوئی تھی ہم ملتے تو کھل اٹھتے‘ تالو سے زبان نہ لگتی اور ہم دنیا و مافیا سے غافل ہو کر اس پشور کی یادیں روشن کرتے جو بہت حد تک ہمارے دل و دماغ میں تو موجود ہے‘ لیکن حال میں مشکل سے اس کا پتہ چلتا ہے۔

میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ وہ یاروں کا یار اور دشمنوں کا دشمن تھا‘ دوستیاں‘ دشمنیاں دونوں نبھاتا تھا‘ اسکی اور خاطر غزنوی مرحوم کی چپقلش پشاور میں سب کو معلوم تھی دونوں کی اناؤں میں ٹکراؤ آگیا تھا‘ خاطر صاحب نے ظہور اعوان کو وہ پذیرائی نہیں دی جو اسکا حق تھا لیکن وہی ظہور جب خاطر بیمار پڑا تو اسکے گھر جا کر اسکی تیمارداری کے علاوہ اسکی ٹانگیں بھی دباتا تھا‘ کجا وہ مور اوور(More over) والی کیفیت اور کجا انکساری اور خاکساری کی حد‘ ظہور میں یہ صفت تھی کہ وہ گرے ہوئے کو لات نہیں مارتا تھا بلکہ اسکے لئے اپنا سینہ سپر کر دیتا تھا۔

ظہور اعوان کی اپنی عادات اور شکایات اپنی جگہ لیکن پشاور کے ادبی حلقوں نے ہمیشہ اسے نظر انداز کیا‘ معلوم نہیں اس میں چند افراد کی اپنی احساس کمتری کا دخل تھا یا ویسے ہی خدا واسطے کا بیر تھا اور یا یہ کہ وہ ظہور کی معیاری زود نویسی اور ظہور کی نثر سے خائف تھے اس بات کی اس نے ہمیشہ شکایت کی کہ پشاور کے ادیب اسکے تحقیقی اور غیر تحقیقی کام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے‘ گھر کی مرغی دال برابر والی بات تھی‘ سرحد سے باہر اسے ادبی اور تدریسی حلقوں میں خاطر خواہ پہچان ملی۔

میں ظہور کے جینیئس (Genius) کا بہت عرصہ سے معترف تھا‘ میری کوشش تھی کہ اسے اردو حلقوں سے باہر انگریزی حلقوں میں پہچان ملے دسمبر 2006ء میں‘ کراچی سے نکلنے والے انگریزی رسالے ہیرالڈ کے لئے میں نے ظہور کا سیر حاصل خاکہ لکھا پہلے تو اس نے حسب معمول ہلکا سا احتجاج کیا کہ یارتم نے خواہ مخواہ میری گڈی (پتنگ) چڑھا دی ہے‘ میں نے کہا کہ میں نے انتقاماً تمہاری گڈی چڑھائی ہے کیونکہ تم ہمیشہ میری گڈی چڑھاتے رہتے ہو‘ اس خاکے کے بعد انگریزی پڑھنے والے طبقے کو احساس ہوا کہ اردو زبان میں بھی ایسے لکھنے والے ہیں جن کی تحریریں اور تحقیقی کام بین الاقوامی معیار کے ہیں۔

کہتے ہیں کہ اگر کسی کو قریب سے دیکھنا ہو تو اسکے ساتھ سفر کرو‘ گزشتہ 17 برسوں میں مجھے بہت سارے ایسے مواقع میسر آئے کہ میں نے ظہور کے ساتھ امریکہ میں اور پاکستان میں سفر کیا‘ جو میں نے دیکھا وہ میرے گزشتہ مشاہدے کی تصدیق تھی‘ غضب کا گفتگو کار‘ دل کا کھلا‘ دوستی کے ناطے مرمٹنے والا‘ اپنی دشمنیاں تو ایک طرف‘ دوستوں کی دشمنیوں کو بھی اپنا بنالینا‘ شاید یہی سانجھی عادتیں تھیں جو ہمیں قریب سے قریب تر لے آئیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بات پر ایک دوسرے سے اتفاق کرتے تھے‘ ہماری دوستی ایک ایسی سطح پر پہنچ چکی تھی کہ ایسے اختلافات کبھی ہمارے تعلقات میں مانع نہیں ہوئے۔

میں نے اوپر ظہور کی معیاری زود نویسی کا ذکر کیا ہے اسکی نثر میں بلا کی روانی تھی وہ ایک کورا کاغذ اور قلم لے کر بیٹھتا اور بس پچیس منٹ میں ایک انشائیہ لکھ دیتا‘ اور انشائیہ بھی ایسا جس میں ماضی‘ حال اور مستقبل کی جھلک نظر آئے اور اردو زبان میں نت نئے محاورے اور ضرب الامثال اختراح کر کے تحریر کو روشن بنا دیتا تھا اسکی اردو زبان کے ساتھ ہندکو اور پشتو کی خوبصورت پیوند کاری کے سب معترف تھے‘ اس بات کا ذکر ضمیر جعفری مرحوم اور شوکت واسطی مرحوم نے اپنی تحریروں میں کیا ہے۔

میں نے اسکی حیران کن زود نویسی کے ساتھ ’’معیاری‘‘ لفظ استعمال کیا ہے وہ جس بات‘ جس کام کا تہیہ کرتا تھا‘ اسکی کوشش ہوتی تھی کہ فوراً سے پیشتر کردے اسکی تصنیفات کی تعداد ساٹھ سے اوپر ہے آپ سب کو ایک طرف رکھ کر اگر اسکے تحقیقی کارنامے ’’داستان تاریخ رپورتاژ نگاری‘‘ پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ 1127 صفحوں پر مشتمل یہ دستاویز اردو تحقیقی ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے‘ ظہور اگر یہی ایک کتاب لکھتا تو اسکا نام ہمیشہ کے لئے اردو ادب میں امر ہو جاتا اگر اسکے ساتھ اسکی کتاب خان اعظم(جو قیوم خان کی شخصیت پر ہے) بھی شامل کر دی جائے تو پلڑا بالکل زمین کے ساتھ لگ جاتا ہے۔

ایک دفعہ ہم چاردرویش(ارشاد احمد صدیقی‘ عتیق احمد صدیقی‘ ظہور اعوان اور میں) میرے گھر‘ سوئمنگ پول میں نہا رہے تھے کہ ہم تینوں نے ظہور سے کہاکہ تم ہر کام میں جلدی کرتے ہو‘ تم زندگی کو سست رفتاری سے پیدل چل کر نہیں دیکھتے ہو بلکہ ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہو‘ کہنے لگا میں دنیا کے ضروری مگر (Redundant) کاموں پر زیادہ وقت صرف نہیں کرتا‘ میں کھانا کھانا‘ باتھ روم جانا‘نہانا ‘کپڑے بدلنا‘ان سب پر منٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگاتا‘ پھر اس نے خود ہی کہا کہ اس لحاظ سے میں دو منٹیا ہوں یعنی ایسے کاموں کے لئے محض چند منٹ کاوقت نکالتا ہوں ‘اور پھرارشاد صدیقی کی لے میں لے ملاکر ناگفتہ بہ قسم کی قوالی گانے لگا‘ عتیق اور میں بھی شامل ہوگئے اور سوئمنگ پول میں دھمال مچ گیا۔

ظہور کئی بار میرے پاس امریکہ آیا‘ میں اکثر کوشش کرتا تھا کہ چیدہ چیدہ لوگوں کو گھر بلاؤں اور ظہور کے ساتھ ان کا تعارف کراؤں لیکن وہ ہمیشہ انکار کر دیتا تھا ‘ایک بار جب عتیق اور ارشاد بھی آئے تھے میں نے ایک ادبی نشست کا انتظام کیا ظہور نے کہاآپ لوگ ادبی نشست میں جو پڑھنا ہے پڑھیں میں صرف سنوں گا میں نے اسے بمشکل راضی کیا کہ بہت سے لوگ تمہیں ملنے کے لئے آرہے ہیں‘اگر اورکچھ نہیں پڑھتے تو اپنا کوئی کالم ہی پڑھ دو‘ خیر اس نے اپنا ایک انشائیہ پڑھا جو اس نے میرے ہاں قیام کے دوران لکھا تھا‘ یہ چار دوستوں کی ملاقات کے حوالے سے تھا‘ سننے والے عش عش کراٹھے‘ظہورکے ساتھ مل کر ارشاد اور عتیق نے وہ رنگ جمایا کہ لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔

کہتے ہیں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں لیکن ظہور کے بے وقت مرنے پر بار بار یہ خیال آتا ہے کہ ملک الموت سے غلطی ہوگئی ہوگی ‘وہ ضرور کسی اور کو لے جانے کیلئے آیا تھا اور لے گیا ہمارے یار کو‘ایسے میں مجھے غالب کا لکھا ہوا مرثیہ یاد آرہاہے جو اس نے اپنے جواں سال بھتیجے عارف کے مرنے پر لکھا تھا اسکے دوشعر ہیں۔

ہاں اے فلک‘ پیر جواں تھا بھی عارف

کیا تیرا بگڑتا جو وہ رہتا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہوقیامت کو ملیں گے



Name a Road at Peshawar and also at Islamabad on the name of Dr. Zahoor Ahmad Awan.

Gandahara Hindko Board Pakistan organized a condolence and remembrancer reference of late Dr. Zahoor Ahmad Awan, at Archive library hall Peshawar, on Sunday, April 17, 2011. Mrs Farhat Jabeen, the widow of late Dr. Zahoor Ahmad Awan was presiding over the reference, while senator Farhatullah Babur
was chief guest. Ejaz Rahim,  Abdulla, Dr. Hafeezullah,  Dr.Fasihud Din, and Syed Zahir Shah, were  speakers expressing their grief and highlighting the ever green and bright past of remarkable author of more than 60 books and a popular most columnist of, for and by Peshawar. They paid warm tribute to the stylish writer of Urdu and also unforgettable and devoted lover of Peshawar and Hindko culture, language and society. Gandhar Hindko Board announced “FAKHRE-PESHAWAR”, the Pride of Peshawar, as a title for him and demanded the authorities to name an un-named highway at Peshawar and also at Islamabad on the name of Dr. Zahoor Ahmad Awan.

 

Leave a comment

All about Peshawar, Cross road to South Asia & Much More

Peshawar is our home city. We born and grown at an ordinary cottage of old Peshawar , we also call it Gold Peshawar . We played in the zigzagged and irregular streets of this old walled city. We know all … Continue reading

Leave a comment

Ahamad Ali Saieen

  Ustad Ahamad Ali Saieen, the renowned Hindko Sufi Poet, was died in April 1937. His 74th Death Anniversary was celebrated here at Peshawar by Idara e Farogh e Hindko. A Hindko, Pashto and Urdu Mushaera was held here on … Continue reading

Leave a comment